پاکپتن میں زمین کے تنازع پر ایک ہی خاندان کے سات افراد کے بہیمانہ قتل کے مقدمے کا فیصلہ سنا دیا گیا۔ عدالت نے جرم ثابت ہونے پر مقدمے میں نامزد دونوں مجرموں کو سات، سات افراد کے قتل کے جرم میں سات، سات بار سزائے موت سناتے ہوئے ہر ملزم پر 35 لاکھ روپے جرمانہ بھی عائد کر دیا۔
عدالتی فیصلے کے مطابق اگر مجرمان جرمانے کی رقم ادا کرنے میں ناکام رہے تو انہیں مزید سات سال قید کی اضافی سزا بھی بھگتنا ہوگی۔
پولیس کے مطابق یہ لرزہ خیز واقعہ 24 مارچ 2023 کی شب پاکپتن کے نواحی گاؤں بڑی راکھ میں پیش آیا تھا، جہاں زمین کے تنازع پر مسلح ملزمان نے ایک ہی خاندان پر حملہ کر کے دو مردوں، تین خواتین اور دو کمسن بچوں سمیت سات افراد کو بے دردی سے قتل کر دیا تھا۔ اس اندوہناک واقعے نے علاقے میں شدید خوف و ہراس پھیلا دیا تھا اور ملک بھر میں اس کی گونج سنائی دی تھی۔
واقعے کے بعد پولیس نے مقدمہ درج کر کے تفتیش مکمل کی، شواہد اور گواہوں کی بنیاد پر ملزمان کو گرفتار کر کے عدالت میں چالان پیش کیا۔ مقدمے کی سماعت مکمل ہونے پر عدالت نے دونوں ملزمان کو قصوروار قرار دیتے ہوئے سزائے موت اور بھاری جرمانے کا حکم جاری کر دیا۔
عدالتی فیصلے کو مقتولین کے لواحقین نے انصاف کی فراہمی کی جانب اہم پیش رفت قرار دیا ہے، جبکہ پولیس حکام کا کہنا ہے کہ سنگین جرائم میں ملوث عناصر کو قانون کے مطابق انجام تک پہنچانا ان کی اولین ترجیح ہے۔





