حضرت امام حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ، ان کے اہل خانہ اور ساتھیوں کی اسلام کی سربلندی کیلئے دی گئی عظیم قربانیوں کی یاد میں 10 محرم الحرام آج (جمعہ) آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان سمیت ملک بھر میں یوم عاشور مذہبی عقیدت و احترام کے ساتھ منایا جا رہا ہے۔
حضرت امام حسین رضی اللہ عنہ، ان کے خاندان کے 72 افراد اور ساتھیوں نے کربلا میں عدل، سچائی، راست بازی اور تقویٰ کی سربلندی کے لیے جام شہادت نوش کیا۔
حضرت امام حسین رضی اللہ عنہ اور دیگر شہدائے کربلا کی قربانیوں کی یاد میں 10ویں محرم ذوالجناح اور جمعہ کو ملک بھر میں ماتمی جلوس نکالے گئے۔
محرم الحرام کے جلوسوں کے راستوں پر کسی بھی ناخوشگوار واقعے سے بچنے کے لیے سیکیورٹی ہائی الرٹ کردی گئی ہے۔ پوشیدہ مقامات پر نصب سی سی ٹی وی کیمروں کے ذریعے جلوس کے راستوں کی نگرانی کی جا رہی ہے۔ فول پروف سیکیورٹی کو یقینی بنانے کے لیے پولیس اور رینجرز کی بھاری نفری تعینات کی گئی ہے۔
ان جلوسوں کے روٹس پر مختلف مقامات پر ماتمی جلوسوں کے لیے پانی اور دودھ کے اسٹینڈز لگائے گئے ہیں۔
کراچی میں مرکزی جلوس نشتر پارک چورنگی سے شروع ہوا جو اپنے راستوں سے ہوتا ہوا حسینیہ ایرانیہ امام بارگاہ کھارادر پر اختتام پذیر ہوگا۔
لاہور میں ہزاروں عزاداروں نے نثار حویلی سے ذوالجناح کا جلوس نکالا جو اپنے روایتی راستوں سے ہوتا ہوا امام بارگاہ گامے شاہ پر اختتام پذیر ہوگا۔ اس جلوس کے روٹ پر 20 ہزار سے زائد پولیس اہلکار تعینات کیے گئے ہیں۔
پشاور میں نو چھوٹے بڑے جلوس نکالے گئے۔ مرکزی جلوس دوپہر ڈھائی بجے امام بارگاہ سید عالم شاہ سے برآمد ہوگا۔ شہر کے راستوں کو مکمل طور پر سیل کر دیا گیا ہے۔
کوئٹہ میں علمدار روڈ سے مرکزی جلوس نکالا گیا۔ ساہیوال ،چیچہ وطنی، اوکاڑہ ، حیدرآباد، سانگھڑ، ڈیرہ اسماعیل خان، جھنگ اور جام نواز علی سمیت دیگر شہروں میں بھی مرکزی ذوالجناح کے جلوس نکالے گئے۔





