ملک بھر میں نویں محرم الحرام کے موقع پر ماتمی جلوس عقیدت و احترام کے ساتھ نکالے گئے جبکہ عزاداروں کی حفاظت کے لیے سکیورٹی کے انتہائی سخت انتظامات کیے گئے۔
لاہور میں نویں محرم الحرام کا مرکزی جلوس پانڈو سٹریٹ اسلام پورہ سے برآمد ہواا، جلوس سراج بلڈنگ، اسلام پورہ چوک، نیلی باغ چوک اور دیگر مقررہ راستوں سے ہوتا ہوا پرانی انارکلی، اے جی آفس اور بابا موج دریا روڈ کے راستے امام بارگاہ خیمہ سادات پہنچ چکا ہے۔
خیمہ سادات میں مجلس عزا اور نماز مغربین کی ادائیگی کے بعد جلوس دوبارہ روانہ ہوگا، جلوس خیمہ سادات سے واپس اپنے مقررہ روٹ کے مطابق روانہ ہو کر پانڈو سٹریٹ پہنچ کر اختتام پذیر ہوگا۔
لاہور میں دوسرا جلوس امام بارگاہ قصرِ بتول شادمان سے شبیہہ ذوالجناح کا مرکزی جلوس برآمد ہوا، جو اپنے روایتی راستوں پر رواں دواں ہے، جلوس میں عزاداروں کی بڑی تعداد شریک ہے جبکہ سیکیورٹی کے فول پروف انتظامات کیے گئے ہیں۔
کوئٹہ میں نویں محرم الحرام کا مرکزی جلوس اپنے مقررہ راستوں سے ہوتا ہوا امام بارگاہ ناصر العزا پہنچ کر اختتام پذیر ہوگیا۔ جلوس کے راستوں کو ٹرکوں اور خاردار تاروں کے ذریعے سیل کیا گیا تھا جبکہ پولیس، ایف سی اور بلوچستان کانسٹیبلری کے اہلکار سیکیورٹی پر مامور رہے۔
حکام کے مطابق جلوس کے روٹ اور اطراف میں سیکیورٹی فورسز کے آٹھ ہزار اہلکار تعینات کیے گئے، جبکہ سیف سٹی کیمروں اور ڈرونز کے ذریعے بھی نگرانی کی گئی۔ سیکیورٹی خدشات کے پیش نظر کوئٹہ سمیت صوبے کے سات اضلاع میں موبائل فون سروس رات آٹھ بجے تک معطل رہی اور دفعہ 144 بھی نافذ رہی۔
کراچی میں نشتر پارک میں خطیبِ پاکستان علامہ شہنشاہ حسین نقوی کی مرکزی مجلسِ عزا کے بعد مرکزی جلوس پاک حیدری اسکاؤٹس کی قیادت میں برآمد ہوا، جلوس مقررہ راستوں سے گزرتا ہوا حسینیہ ایرانیاں امام بارگاہ کھارادر پر اختتام پذیر ہوا۔
اس دوران ایم اے جناح روڈ پر واقع امام بارگاہ علی رضا کے سامنے عزاداروں نے نمازِ ظہرین ادا کی، انتظامیہ کی جانب سے جلوس کی گزرگاہوں سے ملحقہ سڑکوں اور گلیوں کو کنٹینرز لگا کر سیل کیا گیا جبکہ روٹ پر واقع مارکیٹیں اور دکانیں تین روز کے لیے بند رکھی گئیں۔
حیدرآباد میں 9 محرم الحرام کا مرکزی جلوس انجمن گلدستہ اکبر کے تحت برآمد ہوا، جلوس لطیف آباد پانچ سے نکالا گیا تھا، جلوس سے قبل مجلس ہوئی، جلوس اپنے روایتی راستوں پر گشت کرتا ہوا اپنے آغاز کے مقام پر ہی پہنچ کر شام گئے اختتام پذیر ہوگا۔
جلوس میں علم عباس، شبیہ ذوالجناح، شبیہ تابوت، شبیہ جھولا اصغر و دیگر تبرکات شامل ہیں، جلوس کے موقع پر سکیورٹی کے انتہائی سخت اقدامات کئے گئے ہیں، پولیس و رینجرز کی نفری اور اسکاؤٹس کے دستے بھی ہمراہ ہیں۔
پشاور میں نویں محرم الحرام کا مرکزی جلوس حسینیہ ہال صدر سے برآمد ہوا، جلوس اپنے مقررہ راستوں پر رواں دوراں ہے جو کہ مقررہ راستوں سے ہوتا ہوا واپس اسی امام بارگاہ میں اختتام پذیر ہوگا۔
جلوس کے لئے سخت ترین سیکیورٹی انتظامات کئے گئے ہیں، پشاورمیں 10 ہزار سے زائد پولیس اہلکار سکیورٹی کے لئے تعینات ہیں۔





